Do you know about Free Software Movement ?

A short introduction in Urdu about free software foundation and its movement. If you are a tech enthusiast in Pakistan, you must read this once.

کیا آپ فری سوفٹ ویئرفاؤنڈیشن اور اسکی تحریک سے واقف ہیں ؟

فری سوفٹ ویئر فاؤنڈیشن ایک غیرمنافع بخش ادارہ ہے جس کا مقصد فری سوفٹ وئیر تحریک کو تقویت دینا ہے۔یہ ادارہ اکتوبرء1985 میں رچرڈ سٹالمین نے قائم کیا اور اس کا مرکزی دفتر بوسٹن (امریکہ) میں ہے۔ اس تحریر کا مقصد پاکستان میں آئی ٹی سے متعلق افراد کو سافٹ وئیر کی دنیا کے چند ایسے تصورات کا تعارف مہیا کرنا ہے، جو عام طور پر بیان نہیں کیے جاتے۔

سب سے پہلے لفظ ”فری“ کی سمجھ ضروری ہے۔ انگریزی لفظ ”فری“ دو معانی میں استعمال ہوتا ہے، ایک ”مفت“ اور دوسرا ”آزاد“۔یہاں دوسرا مفہوم مراد ہے یعنی ”آزاد” سافٹ وئیر فاؤنڈیشن۔ اسی کے ساتھ ایک اور اصطلاح ”اوپن سورس“ سافٹ وئیر بھی استعمال کی جاتی ہے، مگر یاد رکھئیے، فری (آزاد) سافٹ وئیر اور ”اوپن سورس“ سافٹ وئیر دو الگ الگ تصورات ہیں، جن میں مماثلت بھی ہے اور اختلاف بھی،البته ان کی وضاحت الگ آرٹیکل کی متقاضی ہے۔

فری(آزاد) سوفٹ وئیر تحریک اس بات کی علمبردار ہے کہ کسی بھی سافٹ وئیرکا استعمال، اس کی تقسیم، تفہیم، اس میں ردوبدل اور بہتری پر کسی قسم کی روک ٹوک یا اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے۔ یعنی یہ ایک قسم کی بنیادی انسانی آزادی ہے جس کا تحفظ ہونا چاہیے۔ اس تحریک کی فلاسفی یہ ہے کہ کمپیوٹر کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے سے روکا نہیں جانا چاہیے۔(جیسے کمرشل ساوفٹ وئیر کمپنیاں ایک لائسنس یافتہ سافٹ وئیر کسی کے ساتھ شریک کرنے پر پابندی لگا دیتی ہیں)۔ تحریک کے بانی سٹالمین کا خیال ہے کہ اس سے اچھے سافٹ وئیرز بنانے کی راہ میں مشکلات ختم ہوں گی، کیونکہ اس طرح بار بار ایک ہی مقصد کے لیے کئ سافٹ بنانے کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔ یوں توانائی سافٹ وئیر کو بہتر بنانے پر صرف ہوں گی (ناکہ محض منافع کے لیے ایک دوسرے کی نقل تیار کرنے پر)۔ اس تحریک کے ممبران اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک مثبت/بہتر/اخلاقی معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ سافٹ وئر کے استعمال کنندہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے آزاد ہوں اور انکا اپنے کمپیوٹرز پر ممکل اختیار/تصرف ہو۔(فاؤنڈیشن کے بارے میں مزید جانیے)،(تحریک کے بارے میں مزید جائیے)

رچرڈ سٹالمین نے صرف فری(آزاد) سوفٹ وئیر تحریک کے صرف خیالات کی بنیاد ہی نہیں رکھی بلکہ انہوں نے جی این یو پراجیکٹ (GNU Project) کے نام سے فری (آزاد) سافٹ وئیرز تیار کرنے کا ایک سلسلہ بھی شروع کیا جو اب تقریباً 380 سے زائد سافٹ وئیرز پر مشتمل ہو چکا ہے۔ انکے سافٹ وئرز کی اس کولیکشن کو GNU کے مختصر نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ سٹالمن اس پراجیکٹ کے تحت تمام سافٹ وئیر آزاد معاہدے کے تحت استعمال کنندگان کو مہیا کرتے ہیں (مزید جانیے)۔ البتہ GNU کوایک مکمل آپیریٹنگ سسٹم (ونڈوز یا میک آئی او ایس کی طرح) بننے کے لیے ایک مخصوص حصہ درکار تھا جسے آئی ٹی اصطلاح میں کرنل (Kernel) کہتے ہیں۔ یہ کرنل(Kernel) لائنس ٹوروارڈز نے 1992ء میں لنکس کرنل کے نام سے ایک الگ پراجیکٹ کے تحت جاری کیا، مگر اس کا لائسنس آزاد ہی رکھا اور اس کو GNU کے لائسنس کے تحت جاری کیا (مزید جاںیے)۔ یوں GNU Project اور Linux Kernel کے اشتراک سے GNU/Linux آپیریٹنگ سسٹم وجود میں آتا ہے، جسے مختصراًً لنکس (Linux) بھی کہا جاتا ہے۔ کیوںکہ لنکس اور جی این یو پراجیکٹ کا ہر سافٹ ویئر ”آزاد“ معاہدے کے تحت مہیا کیا جاتا ہے، لہٰذا دنیا بھر میں اس لنکس/Linux آپریٹنگ سسٹم کی سینکڑوں مختلف شکلیں موجود ہیں، جنکو لنکس ڈسٹریبوشنز Linux Distributions کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ہرایک ڈسٹریبیوشن کے مخصوص فوائد/استعمالات ہیں۔(مزید جائیے)

جدید دنیا میں آزاد معاشرتی زندگی اور شخصی آزادی کے تحفظ میں رچرڈ سٹالمین کا کام اور انکی تحریک ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں سافٹ ویئر کارپوریشنز مالی منفعت کی بنیاد پر ایک استحصالی نظام قائم کرنے کے درپے ہیں۔ سٹالمین کی تحریک اور عملی اقدام کے باعث اب آئی ٹی کے شعبے میں آزاد سافٹ وئیر کی تحریک کافی منظم ہو چکی ہے اوریہ مختلف کارپوریشنز کی استحصالی پالیسیوں کو نہ صرف آشکار کرتی ہے بلکہ آزاد سافٹ ویرز کی تیاری اور فروغ کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہے۔ دنیا بھر میں ہزاروں سافٹ وئیر انجینیرز اپنا قیمتی وقت آزاد سافٹ وئیر بنانے میں بلامعاوضہ صرف کرتے ہیں تاکہ معاشرے میں تعاون کی فضا قائم ہو اور یہ بلاشبہ ایک عظیم جذبہ ہے۔ سٹالمین کے نزدیک اس کی تحریک آئی ٹی کی نہیں بلک ایک سیاسی تحریک ہے جوکہ شخصی و علمی آزادی کی علمبردار ہے۔ وکی پیڈیا Wikipedia جیسا پراجیکٹ بھی اسی قسم کی تحریکی سوچ کی پیداوار ہے۔ لنکس Linux اور اس جیسے دیگر سافٹ ویئر معیار میں کمرشل سافٹ ویئرز سے کسی درجے کم نہیں بلکہ بعض کی رائے میں ان سے بہتر ہوتے ہیں۔ امریکی خلائی تحقیق کے ادارے ناسا NASA اور دیگر تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیز میں اس قسم کے سافٹ وییرز بکثرت استعمال ہوتے ہیں۔

پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک اس قسم کی تحاریک سے کئی فائیدے اٹھائے جا سکتے ہیں۔ مثلاً اس قسم کے آزاد سافٹ ویئرز کو پلک پراجیکٹس،سرکاری دفاتر، خصوصاً یونیورسٹیز میں استعمال کرکے ہم اپنے اخراجات کو کم کرسکتے ہیں۔ آج کل وہ یونیورسٹیز جو آئی ٹی کی تعلمیم دیتی ہیں، وہ بھی اس قسم کے آزاد سافٹ ویرز استعمال کرنے کی بجائے ملٹی نیشنل سافٹ وئیر کمپنیز کے مہنگے سافٹ خرید کر استعمال کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے نہ صرف تعلیمی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ طالب علم بھی استعمال کنندہ کی سوچ سے آگے نہیں نکل پاتا۔ آزاد سافٹ وئیر کا استعمال آئی ٹی کی دنیا میں خودانحصاری کی طرف پہلا قدم ہے۔ پاکستان میں آئی ٹی کے ٹیلنٹ کی کمی نہیں، مگر اس ٹیلنٹ کو آزاد سافٹ وئیر کے استعمال اور اس میں مزید بہتری لانے کے لیے ترغیب دینے کی ضرورت ہے۔ ایسا نہیں کہ پاکستان میں یہ میدان بالکل خالی ہے، مگر ابھی صرف گنے چنے افراد ہی اس میں عملی طور پر شامل ہیں۔

Leave a Reply